حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ بھادی شاہ گنج، جونپور، مولانا سید معصوم رضا کیفی نے خطبۂ جمعہ میں حق و باطل کی کشمکش، حق پر ثابت قدمی اور واقعۂ کربلا کے پیغام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کا انجام زوال ہے اور بالآخر حق کی فتح ہوتی ہے۔
مولانا سید معصوم رضا کیفی نے کہا کہ حق اور باطل کے درمیان کشمکش انسانی تاریخ کا اہم موضوع رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حق اور باطل آمنے سامنے آئے، حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، حق نے اپنی شناخت اور اثرات کو برقرار رکھا۔ حق کا راستہ انصاف، سچائی اور انسانیت پر قائم ہے، جبکہ باطل کی بنیاد ظلم، جھوٹ اور ناانصافی پر ہوتی ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سورۂ اسراء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» یعنی ’’کہہ دیجیے کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا ہی تھا۔‘‘
امام جمعہ بھادی شاہ گنج نے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں حق پر قائم رہنے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ صرف حق کو پہچان لینا کافی نہیں بلکہ مشکل حالات میں بھی اس کا ساتھ دینا ضروری ہے۔ اس کے لیے ایمان، صبر، انصاف اور صحیح سوچ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے واقعۂ کربلا کو حق و باطل کے درمیان جدوجہد کی نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے انتہائی مشکل حالات میں بھی حق اور اپنے اصولوں سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ کربلا یہ درس دیتی ہے کہ تعداد اور ظاہری طاقت حق و باطل کی پہچان کا معیار نہیں، بلکہ اصولوں پر ثابت قدمی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
مولانا سید معصوم رضا کیفی نے کہا کہ آج کے دور میں حق کا ساتھ دینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ جھوٹی خبروں اور غلط معلومات کو بغیر تحقیق کے قبول یا نشر نہ کیا جائے۔ انسان اپنے معاملات میں سچائی اختیار کرے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرے اور کمزوروں کے ساتھ انصاف کرے۔
انہوں نے کہا کہ باطل کی چمک عارضی جبکہ حق کی روشنی پائیدار ہے۔ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، سچائی، انصاف اور حق کے اصولوں پر مضبوطی سے قائم رہنا ہی معاشرے کو درست سمت میں آگے بڑھا سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ